حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی نے آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی کی رحلت پر جاری اپنے تعزیتی پیغام میں ان کے انتقال کو ایک المناک مصیبت اور عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی علمی و تدریسی خدمات، گرانقدر علمی آثار اور عملی سیرت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ، حوزات علمیہ اور تمام مومنین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
آیت اللہ سیستانی کا مکمل تعزیتی پیغام اس طرح ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا للہ وانا الیہ راجعون
مرجع عالی قدر، فقیہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام، آیۃ اللہ الحاج سید موسیٰ شبیری زنجانی رضوان اللہ علیہ کی رحلت ایک المناک مصیبت اور عظیم خسارہ ہے۔
مرحوم نے اپنی تمام بابرکت عمر تحقیق اور تدریس میں بسر کی، وہ اکابر علماء اعلام میں سے تھے، قم المقدسہ کے مبارک علمی حوزہ کے بڑے ارکان میں سے تھے، اور عالم ربانی کی روشن مثال تھے۔
ان کے گراں قدر علمی آثار اور دیگر دینی خدمات ایک قیمتی ورثے کے طور پر باقی رہیں گی، اسی طرح ان کا طرزِ عمل اور عملی سیرت ہمیشہ اہلِ علم کے لئے ایک نفیس سرمایہ کے نمونے کے طور پر ہمیشہ باقی رہے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم و مغفور کے درجات بلند فرمائے اور انہیں ان کے آباؤ اجداد طاہرین کے ساتھ محشور فرمائے۔
میں اس عظیم مصیبت پر انتہائی رنج و افسوس کے ساتھ حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کی مقدس بارگاہ، حوزات علمیہ، مرحوم و مغفور کے محترم اہل خانہ، بالخصوص ان کے فرزندان عزیز، اور تمام مومنین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں، اور اللہ تعالیٰ سے سب کے لئے صبر جمیل اور اجر جزیل کا طلبگار ہوں۔
ولا حول ولا قوة الا باللہ العلي العظيم
9 ربیع الآخر 1448ھ
علی الحسینی السيستانی









آپ کا تبصرہ